آمدِ جبریل سے حکمِ خدا روشن ہوا
نعت
آمدِ جبریل سے حکمِ خدا
روشن ہوا
جلوۂ اقراء سے پھر غارِ
حرا روشن ہوا
چشمۂ زم زم کی قدر و منزلت
واضح ہوئی
خوابِ ابرھیمؑ کا ہر زاویہ
روشن ہوا
قیصر و کسریٰ کی سطوت خاک
آلودہ ہوئی
جوشِ ایماں جب تِرے اصحاب
کا روشن ہوا
تکیہ گاہِ ابن عبدالمطلب
تھی بے چراغ
تیری آمد سے حریم آمنہ
روشن ہوا
بجھ گئے یک لخت ثرک و کفر
کے جھوٹے چراغ
تجھ سے جب شق القمر کا
معجزہ روشن ہوا
جو اذیت پر اذیت دے رہے
تھے صبح شام
ان کے حق میں بھی تَرا جود
و سخا روشن ہوا
دھیرے دھیرے جہل کی
تاریکیاں چھٹنے لگیں
جیسے جیسے تیری حکمت کا
دیا روشن ہوا
جاں بلب تھے جتنے پیاسے
ہوگئے آخر شہید
ولولہ یر موک میں ایثار کا
روشن ہوا
تین سو تیرہ ہزاروں پر ہیں
عادل فتح یاب
بدر میں باطل پہ حق کا
دبدبا روشن ہوا
محفوظ الرحمٰن عادل
Mahfoozur Rahman Adil
0 comments:
Post a Comment